ہفتہ 3 اکتوبر 2026 - 12:57
نسل نو کی دینی تربیت اور پاکستان میں شیعہ دینی مراکز  کے احیاء کی ضرورت

حوزه/ پاکستان میں شیعہ معاشرے کے سامنے آج سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں کہ ہماری مذہبی شناخت کیا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسل کو کس طرح قرآن، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات، عبادات، اخلاق اور اسلامی تہذیب سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رکھ سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب نوجوان نسل کو سوشل میڈیا، الحادی افکار، مادہ پرستی، مذہبی شکوک و شبہات اور مختلف فکری و ثقافتی رجحانات کا سامنا ہے، اس وقت دینی مراکز، مدارس، دینیات سنٹرز اور مساجد کا فعال ہونا ایک اجتماعی ضرورت بن چکا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری

حوزه نیوز ایجنسی!

پاکستان میں شیعہ معاشرے کے سامنے آج سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں کہ ہماری مذہبی شناخت کیا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسل کو کس طرح قرآن، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات، عبادات، اخلاق اور اسلامی تہذیب سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رکھ سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب نوجوان نسل کو سوشل میڈیا، الحادی افکار، مادہ پرستی، مذہبی شکوک و شبہات اور مختلف فکری و ثقافتی رجحانات کا سامنا ہے، اس وقت دینی مراکز، مدارس، دینیات سنٹرز اور مساجد کا فعال ہونا ایک اجتماعی ضرورت بن چکا ہے۔

قرآن مجید نے اس ذمہ داری کو صرف علماء یا دینی اداروں تک محدود نہیں کیا بلکہ ہر مؤمن کو اپنے گھر اور خاندان کی دینی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:"وَقُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا" اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ۔ سورۂ تحریم 66:6۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:" وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا"اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ سورۂ طٰہٰ 20:132۔

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ دینی تربیت محض ایک اختیاری سرگرمی نہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر والدین اپنی اولاد کو دنیاوی تعلیم کے لیے بہترین اسکول، کالج اور یونیورسٹی فراہم کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں تو ان کے ایمان، اخلاق، عبادات اور دینی شعور کے لیے بھی باقاعدہ تعلیم و تربیت کا انتظام ناگزیر ہے۔

1.نماز کو دینی زندگی کا مرکز بنانا

اسلامی زندگی میں نماز محض ایک عبادت نہیں بلکہ انسان کی روحانی، اخلاقی اور اجتماعی تربیت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ قرآن مجید نماز کے بارے میں فرماتا ہے:"

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ" بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ سورۂ عنکبوت 29:45۔

اس لیے ہماری مساجد اور دینی مراکز کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ نماز کو محض ایک رسمی عمل کے بجائے زندگی کی بنیاد بنایا جائے۔ بچوں کو نماز سکھائی جائے، نوجوانوں کو نماز کی حکمت اور فلسفہ سمجھایا جائے، والدین کو اپنی عملی مثال کے ذریعے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے اور ہر محلے میں نماز باجماعت کے ماحول کو مضبوط بنایا جائے۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی آخری وصیت میں نماز کے بارے میں نہایت مؤثر انداز میں فرمایا:"وَاللهَ اللهَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا عَمُودُ دِينِكُمْ"اللہ کو یاد رکھو نماز کے بارے میں، کیونکہ نماز تمہارے دین کا ستون ہے۔ نہج البلاغہ، مکتوب 47۔

یہ فرمان ہمیں بتاتا ہے کہ اگر معاشرے میں نماز کمزور ہوجائے تو دینی زندگی کی بنیاد بھی کمزور ہوجاتی ہے۔

نماز کے ترک کے بارے میں قرآن مجید نے قیامت کے دن جہنم میں جانے والوں کی گفتگو نقل کی ہے کہ ان سے پوچھا جائے گا تمہیں سقر میں کس چیز نے پہنچایا تو وہ کہیں گے:"قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ" وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔ سورۂ مدثر 74:42 تا 43۔

لہٰذا واجب نماز کو جان بوجھ کر ترک کرنا انتہائی سنگین دینی معاملہ ہے۔ البتہ اس کی شرعی تفصیلات اور آخرت کی سزا کے تعین میں فقہی احکام اور معتبر روایات کی طرف رجوع ضروری ہے۔

2. اقامۂ نماز صرف انفرادی عبادت نہیں

ہمیں نماز کے ساتھ ساتھ اقامۂ نماز کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی۔ اقامۂ نماز کا مفہوم یہ ہے کہ نماز کو معاشرے کی زندہ اور مؤثر حقیقت بنایا جائے۔ مسجد آباد ہو، نماز باجماعت قائم ہو، نوجوان مسجد سے وابستہ ہوں، بچوں کے لیے نماز کی تربیت ہو اور اہل محلہ ایک دوسرے کو نماز کی طرف دعوت دیں۔

قرآن حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحت نقل کرتا ہے:"يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ"

اے میرے بیٹے نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو۔ سورۂ لقمان 31:17۔

یہ آیت نماز کو امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور صبر کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی دینی تربیت نماز، اخلاق، اجتماعی ذمہ داری اور صبر کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتی۔

3. مساجد اور دینی مراکز کی احیاء

پاکستان کے شیعہ علاقوں میں ہر مسجد کو صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ ایک مکمل دینی، تربیتی اور اخلاقی مرکز بنانے کی ضرورت ہے۔ مسجد میں نماز باجماعت کے ساتھ قرآن کلاس، دینیات کلاس، نوجوانوں کے لیے فکری نشستیں، بچوں کے لیے اخلاقی و اعتقادی تعلیم، خواتین کے لیے مناسب دینی پروگرام اور والدین کے لیے تربیتی نشستیں منعقد کی جاسکتی ہیں۔

اسی طرح ہر علاقے میں دینی مدارس اور دینیات سنٹرز کو مضبوط کیا جائے۔ جہاں باقاعدہ مدرسہ موجود نہیں وہاں مسجد یا امام بارگاہ سے منسلک دینیات سنٹر قائم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مقامی مؤمنین، علماء، ائمہ جماعات اور اہل خیر کو مل کر مستقل منصوبہ بنانا چاہیے۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی آخری وصیت میں نماز کے ساتھ اجتماعی نظم، باہمی اصلاح اور دینی ذمہ داریوں پر بھی زور دیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی معاشرہ صرف انفرادی عبادات سے تشکیل نہیں پاتا بلکہ اجتماعی نظم، باہمی تعاون اور اصلاح بھی ضروری ہیں۔

4. ہر محلے میں دینی کمیٹی اور نوجوانوں کی تنظیم

ایک اہم عملی ضرورت یہ ہے کہ ہر محلے میں مؤمنین کی ایک باقاعدہ دینی کمیٹی موجود ہو۔ اس کمیٹی میں عالم دین، مسجد کے امام، بزرگ مؤمنین، نوجوانوں اور والدین کے نمائندے شامل ہوں۔ اس کمیٹی کا مقصد سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ دینی، اخلاقی، تعلیمی اور سماجی خدمت ہو۔

ہر محلے کی سطح پر درج ذیل شعبے قائم کیے جاسکتے ہیں

نماز باجماعت کی نگرانی اور فروغ،بچوں کے لیے دینیات کلاس،قرآن فہمی کا پروگرام،نوجوانوں کے لیے اعتقادی اور فکری نشستیں ،اخلاقی تربیت،خواتین اور ماؤں کے لیے تربیتی پروگرام،ضرورت مند خاندانوں کی مدد،دینی کتب اور مطالعہ کا مرکز،الحادی اور فکری شبہات کے علمی جوابات،نوجوانوں کی خدمت اور رضاکارانہ سرگرمیاں،محلے کے تمام خاندانوں سے مسلسل رابطہ،اس طرح مسجد ایک زندہ اجتماعی ادارے کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

5. بچوں کی تعلیم اور تربیت ہماری سب سے بڑی ذمہ داری

اگر ہم نسل نو کو دینی تعلیم نہیں دیں گے تو کوئی نہ کوئی دوسرا نظام اسے تعلیم دے گا۔ آج بچے اور نوجوان صرف گھر، مدرسہ یا اسکول سے تعلیم حاصل نہیں کرتے بلکہ ان کے ہاتھ میں موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بھی ایک مسلسل استاد کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے دینی اداروں کو نئی نسل کی فکری دنیا کو سمجھ کر جدید اور مؤثر انداز میں تعلیم فراہم کرنا ہوگی۔

اسلام میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وحی کا آغاز ہی اقْرَأْ پڑھو سے ہوا۔ سورۂ علق 96:1۔

لیکن اسلامی تعلیم صرف معلومات کا نام نہیں۔ اسلامی تربیت کا مقصد ایسا انسان بنانا ہے جو خداشناس، بااخلاق، عبادت گزار، اہل بیت علیہم السلام سے وابستہ، معاشرے کا ذمہ دار اور علمی سوالات کا جواب تلاش کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ہو۔

اس لیے بچوں کو صرف چند دعائیں، مسائل اور مذہبی معلومات یاد کرا دینا کافی نہیں۔ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ اللہ کون ہے، انسان کیوں پیدا ہوا، قرآن کیا ہے، نبوت اور امامت کیا ہے، امام حسین علیہ السلام کی تحریک کا مقصد کیا تھا، نماز کیوں ضروری ہے، اخلاق کیوں ضروری ہیں، آخرت کیا ہے، عدل کیا ہے، آزادی اور ذمہ داری کا اسلامی تصور کیا ہے اور جدید دنیا کے فکری سوالات کا اسلامی نقطۂ نظر کیا ہے۔

6. نسل نو کے لیے جامع نصاب کی اشد ضرورت

آج سب سے اہم ضرورت ایک منظم، جامع اور مستند نسل نو کا دینی و تربیتی نصاب تیار کرنا ہے۔ یہ نصاب عمر اور ذہنی سطح کے مطابق مرحلہ وار ہونا چاہیے۔

مثلاً ابتدائی سطح پر قرآن، کلمہ، نماز، وضو، بنیادی عقائد، سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیرت اہل بیت علیہم السلام، اخلاق، آداب اور اسلامی زندگی کی بنیادی تعلیم دی جائے۔

درمیانی سطح پر قرآن فہمی، عقائد، فقہ، تاریخ اسلام، سیرت ائمہ علیہم السلام، اخلاق، اسلامی تہذیب، معاشرتی ذمہ داریاں اور اسلامی طرز زندگی شامل کیا جائے۔

نوجوانوں کے لیے اس سے آگے بڑھ کر عقلی و استدلالی عقائد، جدید فکری سوالات، الحاد، مادہ پرستی، سیکولر فکر، مذہبی شبہات، اسلامی فلسفہ، اسلامی تاریخ، سوشل میڈیا کے استعمال کے اخلاق، مطالعہ کی عادت اور سماجی خدمت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

نصاب کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ نوجوان صرف یہ نہ سیکھے کہ اسلام کیا کہتا ہے بلکہ یہ بھی سمجھے کہ اسلام یہ کیوں کہتا ہے۔ اس طرح دینی تعلیم محض حفظ اور تلقین سے آگے بڑھ کر فہم، یقین اور کردار سازی کا ذریعہ بنے گی۔

7. الحادی افکار کا مقابلہ علم اور حکمت سے

الحاد اور دینی شکوک کا مقابلہ صرف تنقید یا جذباتی تقریروں سے نہیں کیا جاسکتا۔ نوجوان اگر کسی سوال کا جواب تلاش کررہا ہے تو اسے سوال کرنے کی اجازت، علمی ماحول اور مستند جواب فراہم کرنا ضروری ہے۔

اس لیے دینی مراکز میں ایسے اساتذہ تیار کیے جائیں جو قرآن، حدیث، عقائد، کلام، فلسفہ اور جدید فکری مباحث سے واقف ہوں۔ نوجوانوں کے سوالات کو دبانے کے بجائے ان کے علمی جواب دیے جائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ اسلام عقل، علم اور تدبر کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ قرآن بار بار انسان کو غور و فکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔

8.عبادات کو زندگی سے جوڑنا

دینی تربیت کا مقصد صرف نماز پڑھنے والا انسان بنانا نہیں بلکہ نماز کے اثرات کو زندگی میں پیدا کرنا ہے۔ نماز انسان کو برائی سے روکے، روزہ تقویٰ پیدا کرے، زکات ایثار پیدا کرے، دعا انسان کو اللہ سے جوڑے، قرآن کردار کی تعمیر کرے اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت انسان کو عدل، تقویٰ، شجاعت، صبر اور خدمت خلق کی طرف لے جائے۔

امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول روایت میں نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنے کی فضیلت اور ایسے اعمال کی محبوبیت بیان ہوئی ہے جن پر انسان مستقل مزاجی کے ساتھ قائم رہے، خواہ وہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔ الکافی، جلد 3، ص 274۔

اس روایت سے دینی تربیت کا ایک اہم اصول سامنے آتا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں وقتی جوش پیدا کرنے کے بجائے مستقل دینی عادات پیدا کی جائیں۔

9. محلہ محلہ دینی احیاء کی تحریک

ہمیں ایک ایسے اجتماعی منصوبے کی ضرورت ہے جس کے تحت ہر شیعہ محلہ اپنی مسجد، امام بارگاہ، دینی مدرسہ اور دینیات سنٹر کو فعال کرے۔ ہر مسجد کے ساتھ بچوں کی کلاس ہو، نوجوانوں کا حلقہ ہو، قرآن کا درس ہو، نماز باجماعت کا اہتمام ہو اور والدین کے لیے تربیتی نشستیں ہوں۔

ہر محلے کی دینی کمیٹی ماہانہ بنیاد پر جائزہ لے کہ کتنے بچے دینیات پڑھ رہے ہیں، کتنے نوجوان مسجد سے وابستہ ہیں، کتنے خاندان نماز باجماعت میں شریک ہوتے ہیں اور کن خاندانوں کو دینی و معاشرتی مدد کی ضرورت ہے۔

یہ کام کسی ایک فرد یا ادارے سے نہیں ہوگا۔ علماء، والدین، اساتذہ، نوجوان، اہل خیر اور دینی اداروں کو مل کر یہ ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔

10. ہماری اصل ترجیح نسل نو ہونی چاہیے

آج ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسجد کی تعمیر صرف دیواریں تعمیر کرنے کا نام نہیں۔ اصل مسجد وہ ہے جہاں انسان کی تعمیر ہوتی ہے۔ مدرسے کی کامیابی صرف طلبہ کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے معلوم ہوگی کہ وہاں سے نکلنے والی نسل قرآن سے کتنی وابستہ، نماز کی کتنی پابند، اخلاق میں کتنی مضبوط، اہل بیت علیہم السلام کی سیرت سے کتنی آشنا اور جدید فکری چیلنجوں کے مقابلے میں کتنی باصلاحیت ہے۔

اگر ہم نے اپنی نسل نو کے لیے مضبوط دینی تعلیمی نظام قائم کردیا تو یہی بچے مستقبل کے عالم، استاد، ڈاکٹر، انجینئر، دانشور، تاجر، سماجی کارکن اور دینی رہنما بن کر معاشرے کی خدمت کریں گے۔ لیکن اگر ہم نے ان کی دینی اور فکری تربیت کو نظر انداز کیا تو صرف مذہبی تقریبات اور وقتی اجتماعات ہماری شناخت کو آنے والی نسل تک منتقل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔

آخری بات

پاکستان میں شیعہ دینی مراکز کی احیاء کا سب سے مؤثر راستہ یہ ہے کہ ہم مسجد کو مرکز، نماز کو بنیاد، قرآن کو رہنما، اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کو نمونہ، دینی مدرسے کو علمی مرکز، دینیات سنٹر کو تربیتی مرکز، نوجوانوں کو معاشرے کی قوت اور نسل نو کی تعلیم و تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

قرآن نے حضرت لقمان کی نصیحت میں نماز، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور صبر کو ایک ہی تربیتی سلسلے میں بیان کیا ہے۔ اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی آخری وصیت میں نماز کو دین کا ستون قرار دیا۔

لہٰذا آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہر محلہ یہ عہد کرے کہ یہاں کوئی بچہ دینی تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، کوئی نوجوان اپنے بنیادی اعتقادی سوالات کے جواب کے بغیر نہیں رہے گا، مسجد نماز کے ساتھ تعلیم و تربیت کا مرکز ہوگی اور ہر خاندان اپنی اولاد کی دینی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھے گا۔

اگر ہم نے آج نسل نو کے لیے ایک جامع، مستند، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر مبنی نصاب تیار کرکے اسے محلہ محلہ نافذ کردیا تو یہ صرف ایک تعلیمی منصوبہ نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے شیعہ معاشرے کی دینی، فکری اور اخلاقی تجدید کی بنیاد بن سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha